Aal-i-Imraan • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ ﴾
“BEHOLD, as for those who are bent on denying the truth - neither their worldly possessions nor their offspring will in the least avail them against God; and it is they, they who shall be the fuel of the fire!”
خدا کسی آدمی کو ذکر و فکر کی سطح پر ملتاہے۔ یعنی آدمی سوچ کے ذریعہ سے خدا کو پاتا ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا میں اپنے دلائل بکھیر دئے ہیں، آدمی کی اپنی ذات میں، باہر کی کائنات میں اور پھر پیغمبر کی تعلیمات میں۔ جو لوگ ان خدائی نشانیوں میں غور کریں گے وہی خدا کو پائیں گے۔ دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کردے تو گویا کہ اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگوں کےلیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔