WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 152 من سورة سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Aal-i-Imraan • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴾

“AND, INDEED, God made good His promise unto you when, by His leave, you were about to destroy your foes - until the moment when you lost heart and acted contrary to the [Prophet's] command, and disobeyed after He had brought you within view of that [victory] for which you were longing. There were among you such as cared for this world [alone], just as there were among you such as cared for the life to come: whereupon, in order that He might put you to a test, He prevented you from defeating your foes. But now He has effaced your sin: for God is limitless in His bounty unto the believers.”

📝 التفسير:

جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔ مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔