Aal-i-Imraan • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ ﴾
“But when she had given birth to the child, she said: "O my Sustainer! Behold, I have given birth to a female" - the while God had been fully aware of what she would give birth to, and [fully aware] that no male child [she might have hoped for] could ever have been like this female - "and I have named her Mary. And, verily, I seek Thy protection for her and her offspring against Satan, the accursed."”
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔