WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 39 من سورة سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Aal-i-Imraan • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَنَادَتْهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌۭ يُصَلِّى فِى ٱلْمِحْرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًۭا وَحَصُورًۭا وَنَبِيًّۭا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ﴾

“Thereupon, as he stood praying in the sanctuary, the angels called out unto him: "God sends thee the glad tiding of [the birth of] John, who shall confirm the truth of a word from God, and [shall be] outstanding among men, and utterly chaste, and a prophet from among the righteous."”

📝 التفسير:

اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔