WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 7 من سورة سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Aal-i-Imraan • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ مِنْهُ ءَايَٰتٌۭ مُّحْكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٌۭ ۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌۭ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَآءَ ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِۦ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ﴾

“He it is who has bestowed upon thee from on high this divine writ, containing messages that are clear in and by themselves - and these are the essence of the divine writ - as well as others that are allegorical. Now those whose hearts are given to swerving from the truth go after that part of the divine writ which has been expressed in allegory, seeking out [what is bound to create] confusion, and seeking [to arrive at] its final meaning [in an arbitrary manner]; but none save God knows its final meaning. Hence, those who are deeply rooted in knowledge say: "We believe in it; the whole [of the divine writ] is from our Sustainer - albeit none takes this to heart save those who are endowed with insight.”

📝 التفسير:

قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لیے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہِ راست اسلو ب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیںآتیں۔ اس لیے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل وتشبیہہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’انسان کا ہاتھ‘‘ کہا جائے تو یہ براہِ راست زبان کی مثال ہے اور ’’اللہ کا ہاتھ‘‘ تمثیلی زبان کی مثال ۔جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ’’انسان کے ہاتھ‘‘ کو متعین طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر ’’خدا کے ہاتھ‘‘ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔ متشابہات کے سلسلے میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لیے ان حقائق کا کلّی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعیّنات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں میں الجھنے سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہوجائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں گي مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہيے۔ اگر وہ کسی اور رُخ سے دیکھنے لگے تو عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کرسکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے۔ سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ آدمی اس راز کو جان لے کہ کسی چیز کو دیکھنے کا صحیح ترین رخ کیا ہے۔