Luqman • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ وَأَلْقَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍۢ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍۢ كَرِيمٍ ﴾
“He [it is who] has created the skies without any supports that you could see, and has placed firm mountains upon the earth, lest it sway with you, and has caused all manner of living creatures to multiply thereon. And We send down water from the skies, and thus We cause every noble kind [of life] to grow on earth.”
کائنات لامتناہی خلا ہے۔ اس کے اندر بے شمار نہایت بڑے بڑے اجرام مسلسل گردش کررہے ہیں۔ ان اجرام کا اس طرح خلا میں گردش کرتے ہوئے قائم رہنا دہشت ناک حد تک عظیم واقعہ ہے۔ پھر ہماری زمین موجودہ کائنات میں ایک انتہائی استثنائی کرہ ہے جس میں اَن گنت انتظامات نے اس کے اوپر انسانی زندگی کو ممکن بنا دیا ہے۔ انھیں انتظامات میں سے چند یہ ہیں — زمین کی سطح پر پہاڑوں کے ابھار سے توازن قائم ہونا۔ پھر پانی اور زندگی اور نباتات جیسی عجیب چیزوں کی زمین پر افراط کے ساتھ موجودگی۔ ایک خدائے برتر کے سوا کوئی نہیں جو اس عظیم نظام کو قائم رکھ سکے۔ پھر انسان کےلیے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز پرستش بنائے۔