WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 16 من سورة سُورَةُ لُقۡمَانَ

Luqman • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ يَٰبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍۢ مِّنْ خَرْدَلٍۢ فَتَكُن فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَوْ فِى ٱلْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌۭ ﴾

““O my dear son,” [continued Luqman,] “verily, if there be but the weight of a mustard-seed, and though it be [hidden] in a rock, or in the skies, or in the earth, God will bring it to light: for, behold, God is unfathomable [in His wisdom], all-aware”

📝 التفسير:

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔ دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔