Luqman • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّۭ يَجْرِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ﴾
“Art thou not aware that it is God who makes the night grow longer by shortening the day, and makes the day grow longer by shortening the night, and that He has made the sun and the moon subservient [to His laws], each running its course for a term set [by Him] and that God is fully aware of all that you do?”
انسان اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔ اور جب ایک زندگی کا وجود ممکن ہو تو اسی قسم کی دوسری زندگیوں کا وجود میںآنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہوجاتاہے۔ اسی طرح ہر آدمی اس واقعہ کا تجربہ کررہا ہے کہ وہ ایک آواز کو سن سکتا ہے۔ وہ ایک منظر کو دیکھ سکتا ہے پھر جب ایک آواز کا سننا اور ایک منظر کا دیکھنا ممکن ہو تو بہت سی آوازوں کو سننا اور بہت سے مناظر کو دیکھنا ناممکن کیوں ہوگا۔ رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا کنایہ کی زبان میںاس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتا ہے۔ اپنے محور پر کامل صحت کے ساتھ زمین کی مسلسل گردش اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ ایسی حالت میں اس کے سواکون ہے جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو اپنی زندگی میں بڑائی کا مقام دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا کو چھوڑ کر جس کو بھی عظمت کا مقام دیا جاتا ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی عظمت حاصل نہیں۔