WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 27 من سورة سُورَةُ السَّجۡدَةِ

As-Sajda • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًۭا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَٰمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ ﴾

“Are they not aware that it is We who drive the rain onto dry land devoid of herbage, and thereby bring forth herbage of which their cattle and they themselves do eat? Can they not, then, see [the truth of resurrection]?”

📝 التفسير:

قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔