WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 1 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا ﴾

“PROPHET! Remain conscious of God, and defer not to the deniers of the truth and the hypo­crites: for God is truly all-knowing, wise.”

📝 التفسير:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کے داعی تھے۔ اس دنیا میں جو شخص بے آمیز حق کا داعی بن کر اٹھے اس کو نہایت حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پورے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی کا دنیا پرستانہ مذہب داعی کے آخرت پسندانہ دین سے جوڑ نہیں کھاتا۔ کسی کی زمانہ سازی داعی کی بے لاگ حق پرستی سے ٹکراتی ہے۔ کوئی دین کو اپنی قوم پرستی کا ضمیمہ بنائے ہوئے ہوتا ہے، جب کہ داعی کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ دین کو خالص خدا پرستی کی بنیاد پرقائم کیا جائے۔ ایسی حالت میں داعی اگر ماحول کا دباؤ قبول کرلے تو بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور اگر وہ خالص حق پر قائم رہے تو ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کا سہارا نظر نہیں آتا۔ مگر داعی کو کسی حال میں پہلا راستہ نہیں اختیار کرنا ہے۔ اس کو اللہ کے بھروسہ پر خالص حق پر قائم رہنا ہے۔ اور یہ امید رکھنا ہے کہ خدا حکیم اور علیم ہے، وہ ضرور اپنے بندے کی مدد فرمائے گا۔