Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ ﴾
“[Remember what you felt] when they came upon you from above you and from below you, and when [your] eyes became dim and [your] hearts came up to [your] throats, and [when] most conflicting thoughts about God passed through your minds:”
غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔