WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 14 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا۟ ٱلْفِتْنَةَ لَءَاتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا۟ بِهَآ إِلَّا يَسِيرًۭا ﴾

“Now if their town had been stormed, and they had been asked [by the enemy] to commit apos­tasy, [the hypocrites] would have done so without much delay”

📝 التفسير:

غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔