Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ ۖ وَإِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِى ٱلْأَعْرَابِ يَسْـَٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا۟ فِيكُم مَّا قَٰتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا ﴾
“They think that the Confederates have not [really] withdrawn; and should the Confederates return, these [hypocrites] would prefer to be in the desert, among the bedouin, asking for news about you, [O believers, from far away;] and even were they to find themselves in your midst, they would but make a pretence at fighting [by your side].”
ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔ جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔ دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔