Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌۭ صَدَقُوا۟ مَا عَٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُۥ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا۟ تَبْدِيلًۭا ﴾
“Among the believers are men who have [always] been true to what they have vowed before God; and among them are such as have [already] redeemed their pledge by death, and such as yet await [its fulfillment] without having changed [their resolve] in the least.”
رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔