Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًۭا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًۭا ﴾
“Thus, for all their fury, God repulsed those who were bent on denying the truth; no advantage did they gain, since God was enough to [protect] the believers in battle - seeing that God is most powerful, almighty;”
غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )