WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 26 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَٰهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ فَرِيقًۭا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًۭا ﴾

“and He brought down from their strongholds those of the followers of earlier reve­lation who had aided the aggressors, and cast terror into their hearts: some you slew, and some you made captive;”

📝 التفسير:

غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )