WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 29 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلْءَاخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًۭا ﴾

“but if you desire God and His Apostle, and [thus the good of] the life in the hereafter, then [know that], verily, for the doers of good among you God has readied a mighty reward!””

📝 التفسير:

ہجرت نے مسلمانوں کی معاشیات کو درہم برہم کردیا تھا۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو مسلسل جنگ میں الجھا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بالکل برباد ہو کر رہ گئی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرپڑا۔ آپ کے گھر والوں کا حال یہ ہوا کہ ناگزیر ضرورت کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آپ کی ازواج نے تنگ آکر آپ سے نفقہ (خرچ) کا مطالبہ شروع کردیا۔ ازواج کی طرف سے صرف ضروری خرچ کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ اس کو اللہ نے زینتِ دنیا کے مطالبہ سے تعبیر فرمایا۔ یہ دراصل شدتِ اظہار ہے۔ اسی طرح ’’بے حیائی‘‘ کا لفظ بھی یہاں شدتِ اظہار کےلیے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ایک اہم ترین مشن کی تکمیل پر مامور تھے، یعنی دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا قیام۔ ایسی حالت میں کسی بھی دوسری چیز کو اہمیت دینا آپ کےلیے ممکن نہ تھا۔ اس ليے ازواجِ رسول سے فرمایاگیا کہ یا تو صبر اور قناعت کے ساتھ رسول کے ساتھ رہو۔ اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ الگ ہوجاؤ۔ خانگی نزاع کھڑی کر کے پیغمبر کے ذہن کو منتشر کرنا کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔