WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 37 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِىٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِى فِى نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌۭ مِّنْهَا وَطَرًۭا زَوَّجْنَٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌۭ فِىٓ أَزْوَٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرًۭا ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًۭا ﴾

“AND LO, [O Muhammad,] thou didst say unto the one to whom God had shown favour and to whom thou hadst shown favour, “Hold on to thy wife, and remain conscious of God!” And [thus] wouldst thou hide within thyself something that God was about to bring to light for thou didst stand in awe of [what] people [might think], whereas it was God alone of whom thou shouldst have stood in awe! [But] then, when Zayd had come to the end of his union with her, We gave her to thee in marriage, so that [in future] no blame should attach to the be­lievers for [marrying] the spouses of their adopted children when the latter have come to the end of their union with them. And [thus] God’s will was done.”

📝 التفسير:

حضرت زید کے ساتھ حضرت زینب کانکاح 4 ہجری میں ہوا۔ مگر نباہ نہ ہوسکا اور اگلے سال دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ حضرت زید نے جب رسول صلي الله عليه وسلم سے طلاق کا ارادہ ظاہر کیاتو آپ نے سبب پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ وہ اپنے خاندانی شرف کی وجہ سے میرے مقابلہ میں بڑائی کا احساس رکھتی ہیں (تَتَعَظَّمُ عَلَيَّ لِشَرَفِهَا) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ 642 ۔ تاہم آپ نے انھیں روکا۔ بار بار کی درخواست پر آخر کار آپ نے انھیں علیحدگی کی اجازت دے دی۔ زید اور زینب کے نکاح سے اولاً یہ رسم توڑی گئی تھی کہ معاشرتی فرق کو نکاح میں حائل نہیں ہونا چاہيے۔ مگر جب ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تو اب اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہوئی کہ زینب کو ایک اورغلط رسم کے توڑنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ قدیم جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) کو بالکل حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ ہر اعتبار سے اس کے وہی حقوق تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ اس رسم کو توڑنے کی بہترین صورت یہ تھی کہ طلاق کے بعد حضر زینب کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا جائے۔زید رسول اللہ کے متبنیٰ تھے۔ حتی کہ ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا تھا۔ ایسی حالت میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ عورت سے آپ کا نکاح کرنا اس رسم کے خلاف ایک دھماکہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ متبنیٰ کی منکوحہ باپ پر حرام ہے جس طرح حقیقی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشگی طورپر بتایا جاچکا تھا کہ اگر دونوں میں علیحدگی ہوئی تو اس جاہلی رسم کو توڑنے کی تدبیر کے طورپر زینب کو آپ کے نکاح میں دے دیاجائے گا۔ چوں کہ اس قسم کا نکاح قدیم ماحول میں زبردست بدنامی کا ذریعہ ہوتا، اس ليے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کو روکتے رہے کہ اگر وہ طلاق نہ دیں تو میں اس شدید آزمائش سے بچ جاؤں گا۔ مگر جو چیز علم الٰہی میں مقدر تھی وہ ہو کر رہی۔ زید نے زینب کو طلاق دیدی اور اس رسم کو توڑنے کی عملی تدبیر کے طور پر 5 ہجری میں زینب کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا گیا۔