Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ هُوَ ٱلَّذِى يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَلَٰٓئِكَتُهُۥ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَكَانَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًۭا ﴾
“He it is who bestows His blessings upon you, with His angels [echoing Him], so that He might take you out of the depths of darkness into the light. And, indeed, a dispenser of grace is He unto the believers.”
جب ملاوٹی دین کا غلبہ ہو، اس وقت سچے دین کو اختیار کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے دل میں بعض اوقات دل شکستگی اور مایوسی کے جذبات طاری ہونے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کی صرف ایک ہی یقینی صورت ہے — ظاہری ناخوش گواریوں کے پیچھے جو خوش گوار پہلو چھپا ہواہے، اس پر نظر کو جمائے رکھنا۔ لوگ مادیات کے بل پر جیتے ہیں۔ مومن کو افکار (ideas)کے بل پر جینا پڑتاہے۔ افکار کی سطح پر جینا یہ ہے کہ آدمی اللہ کی یادوں میں جینے لگے فرشتوں کا غیر مسموع کلام اسے سنائی دینے لگے۔ اس کو صحیح مقصد کی شکل میں جو فکری دریافت ہوئی ہے اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھے۔ دنیا کودے کر آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس پر وہ پوری طرح راضی اور مطمئن ہوجائے۔