WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 48 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ وَدَعْ أَذَىٰهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًۭا ﴾

“and defer not to [the likes and dislikes of] the deniers of the truth and the hypocrites, and disregard their hurtful talk, and place thy trust in God: for none is as worthy of trust as God.”

📝 التفسير:

شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔