Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ٱدْعُوهُمْ لِءَابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌۭ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا ﴾
“[As for your adopted children,] call them by their [real] fathers’ names: this is more equitable in the sight of God; and if you know not who their fathers were, [call them] your brethren in faith and your friends. However, you will incur no sin if you err in this respect: [what really matters is] but what your hearts intend - for God is indeed much-forgiving, a dispenser of grace!”
آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔ آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔