WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 50 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٰجَكَ ٱلَّٰتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ وَٱمْرَأَةًۭ مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةًۭ لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىٓ أَزْوَٰجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌۭ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ﴾

“O PROPHET! Behold, We have made lawful to thee thy wives unto whom thou hast paid their dowers, as well as those whom thy right hand has come to possess from among the captives of war whom God has bestowed upon thee. And [We have made lawful to thee] the daughters of thy paternal uncles and aunts, and the daughters of thy maternal uncles and aunts, who have migrated with thee [to Yathrib]; and any believing woman who offers herself freely to the Prophet and whom the Prophet might be willing to wed: [this latter being but] a privilege for thee, and not for other believers - [seeing that] We have already made known what We have enjoined upon them with regard to their wives and those whom their right hands may possess. [And] in order that thou be not burdened with [undue] anxiety - for God is indeed much-forgiving, a dispenser of grace –”

📝 التفسير:

عام مسلمانوں کےلیے بیویوں کی آخری تعداد کو چار تک محدود رکھاگیا ہے۔ مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے یہ پابندی نہیں تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی خصوصی اجازت کے تحت چار سے زیادہ نکاح کیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ رسول کے اوپر کوئی تنگی نہ رہے۔ تنگی سے مراد پیغمبرانہ مشن کی ادائیگی میں تنگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف دعوتی اور اصلاحی تقاضوں کے تحت ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ آپ زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لاسکیں۔ اسی دینی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کےلیے چار کی قید نہیں رکھی۔ مثال کے طورپر حضرت عائشہ سے نکاح میں یہ مصلحت تھی کہ ایک کم عمر اور ذہین خاتون آپ کی مستقل صحبت میں رہیں تاکہ آپ کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو دین سکھاتی رہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی وفات کے بعد نصف صدی تک امت کےلیے ایک زندہ کیسٹ ریکارڈر بنی رہیں۔ اسی طرح حضرت ميمونه بنت الحارث اور حضرت اُم حبیبہ سے نکاح کا یہ فائدہ ہوا کہ خالد بن ولید اور ابو سفیان بن حرب کی مخالفت ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی، وغیرہ۔