Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ۞ تُرْجِى مَن تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُـْٔوِىٓ إِلَيْكَ مَن تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ ءَاتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًۭا ﴾
“[know that] thou mayest put off for a time whichever of them thou pleasest, and mayest take unto thee whichever thou pleasest; and [that,] if thou seek out any from whom thou hast kept away [for a time], thou wilt incur no sin [thereby]: this will make it more likely that their eyes are gladdened [whenever they see thee], and that they do not grieve [whenever they are overlooked], and that all of them may find contentment in whatever thou hast to give them: for God [alone] knows what is in your hearts - and God is indeed all-knowing, forbearing.”
جہاں کئی خواتین کا مسئلہ ہو وہاں شکایت کا امکان بڑھ جاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں تھیں اس بنا پر اندیشہ تھا کہ حقوقِ زوجیت کے بارے میں خواتین کو عدم مساوات کی شکایت ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکسوئی کے ساتھ دینی مہم کی ادائيگی نہ فرماسکیں۔ اس ليے اعلان فرمایا کہ پیغمبر کا معاملہ خصوصی معاملہ ہے۔وہ عام مسلمانوں کی طرح حقوق زوجیت میں مساوات کے پابند نہیں ہیں۔ حقوقِ زوجیت کی رعایت اور حقوقِ اسلام کی رعایت میں ٹکراؤ ہو تو پیغمبر کےلیے جائز ہوگا کہ وہ حقوقِ اسلام کی رعایت کو ترجیح دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ضابطہ سے مستثنیٰ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خواتین کے اندر شکایتی ذہن کی پیدائش کور وکا جاسکے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو عملاً بہت ہی کم استعمال فرمایا۔