WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 53 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَٱدْخُلُوا۟ فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَٱنتَشِرُوا۟ وَلَا مُسْتَـْٔنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى ٱلنَّبِىَّ فَيَسْتَحْىِۦ مِنكُمْ ۖ وَٱللَّهُ لَا يَسْتَحْىِۦ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَٰعًۭا فَسْـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٍۢ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا۟ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓا۟ أَزْوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦٓ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ﴾

“O YOU who have attained to faith! Do not enter the Prophet’s dwellings unless you are given leave; [and when invited] to a meal, do not come [so early as] to wait for it to be readied: but whenever you are invited, enter [at the proper time]; and when you have partaken of the meal, disperse without lingering for the sake of mere talk: that, behold, might give offence to the Prophet, and yet he might feel shy of [asking] you [to leave]: but God is not shy of [teaching you] what is right. And [as for the Prophet’s wives,] whenever you ask them for anything that you need, ask them from behind a screen: this will but deepen the purity of your hearts and theirs. Moreover, it does not behove you to give offence to God’s Apostle - just as it would not behove you ever to marry his widows after he has passed away: that, verily, would be an enormity in the sight of God.”

📝 التفسير:

یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں حکم دیتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی گھریلو معاشرت کے آداب کس قسم کے ہونے چاہئیں — وہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں۔کھانے یا کسی اور ضرورت کےلیے کسی کے یہاں بلایا جائے تو صرف بقدر ضرورت وہاں بیٹھیں اور فراغت کے بعد فوراً واپس ہو جائیں۔ دوسروں سے ملنے جائیں تو غیر ضروری باتوں سے شدید پرہیز کریں۔ عورتوں سے متعلق کوئی کام ہو تو پردے کی آڑ سے اس کو انجام دیں، وغیرہ۔ معاشرتی زندگی میں آدمی کو صرف اپنی خواہش یا ضرورت نہیں دیکھنا چاہيے بلکہ اس کو نہایت شدت سے یہ بات ملحوظ رکھنا چاہيے کہ اس کے رویہ سے دوسرے شخص کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس کی غیر ضروری باتیں دوسرے کاوقت ضائع کرنے والی نہ ہوں۔