WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 55 من سورة سُورَةُ الأَحۡزَابِ

Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِىٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ ۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا ﴾

“[However,] it is no sin for them [to appear freely] before their fathers, or their sons, or their brothers, or their brothers’ sons, or their sisters’ sons, or their womenfolk, or such [male slaves] as their right hands may possess. But [always, O wives of the Prophet,] remain con­scious of God - for, behold, God is witness unto everything.”

📝 التفسير:

اوپر کی آیت میں مَردوں کےلیے یہ ممانعت تھی کہ وہ ازواج رسول کے سامنے نہ آئیں۔ اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ محرم رشتہ دار اور میل جول کی عورتیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یہاں جن رشتوں کا ذکر ہے اس میں وہ رشتے بھی آجائیں گے جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ اس قرآنی ہدایت کی مزید تفصیل سورہ نور (آیت 31 ) میں موجود ہے۔ تمام احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو۔ وہ یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اللہ ہر حال میں اس کی نگرانی کررہا ہے۔