Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ﴾
“O Prophet! Tell thy wives and thy daughters, as well as all [other] believing women, that they should draw over themselves some of their outer garments [when in public]: this will be more conducive to their being recognized [as decent women] and not annoyed. But [withal,] God is indeed much- forgiving, a dispenser of grace!”
مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔