Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمْ ۗ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًۭا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَسْطُورًۭا ﴾
“The Prophet has a higher claim on the believers than [they have on] their own selves, [seeing that he is as a father to them] and his wives are their mothers: and they who are [thus] closely related have, in accordance with God’s decree, a higher claim upon one another than [was even the case between] the believers [of Yathrib] and those who had migrated [there for the sake of God]. None the less, you are to act with utmost goodness towards your [other] close friends as well: this [too] is written down in God’s decree.”
پیغمبراپني زندگی میں ذاتی طورپر اور وفات کے بعد اصولی طورپر اہلِ ایمان کےلیے سب سے زیادہ مقدم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔پیغمبر کی تعلیمات کی عظمت کو قائم رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کا وجود لوگوں کی نظر میں مقدس وجود ہو۔ حتیٰ کہ اس کی بیویاں بھی لوگوں کےلیے ماؤں کی طرح قابل احترام قرار پائیں۔ پیغمبر اور آپ کی ازواج کے بعد امت کے بقیہ لوگوں کے تعلقات کی اساس یہ ہے کہ رحمی رشتے رکھنے والے الاقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حقدار ٹھہریں گے۔ دینی ضرورت کے تحت وقتی طورپر غیر رشتہ داروں میں حقوق کی شرکت قائم کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانہ میں مدینہ میں کیاگیا۔ مگر مستقل معاشرتی انتظام کے اعتبار سے حقیقی رشتہ دار ہی اولیٰ اور اقرب ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔