Al-Ahzaab • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ مِيثَٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍۢ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا ﴾
“AND LO! We did accept a solemn pledge from all the prophets from thee, [O Muhammad,] as well as from Noah, and Abraham, and Moses, and Jesus the son of Mary -: for We accepted a most weighty, solemn pledge from [all of] them,”
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے وہ امتحان ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں ہر قسم کے اسباب حیات دے کر اس کو آزادانہ ماحول میں رکھنا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو ابدی انعام یا ابدی سزا دینا۔ زندگی کی یہ امتحانی نوعیت لازماً یہ چاہتی ہے کہ آدمی کو اصل صورت حال سے پوری طرح با خبر کردیا جائے۔ اس مقصد کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا سلسلہ قائم فرمایا۔ پیغمبری کوئی لاؤڈاسپیکر کا اعلان نہیںہے۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس ليے تمام پیغمبروں سے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ عہد لیا گیاکہ وہ پیغام رسانی کے اس نازک کام کو اس کے تمام آداب اور تقاضوں کے ساتھ انجام دیں گے۔ اور اس میں ہر گز کوئی ادنیٰ کوتاہی نہ کریں گے۔