Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌۭ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌۭ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ﴾
“AND UNTO Solomon [We made subservient] the wind: its morning course [covered the distance of] a month’s journey, and its evening course, a month’s journey. And We caused a fountain of molten copper to flow at his behest; and [even] among the invisible beings there were some that had [been constrained] to labour for him by his Sustainer’s leave and whichever of them deviated from Our command, him would We let taste suffering through a blazing flame -:”
حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندری سفر اور سمندری تجارت کو بہت ترقی دی تھی۔ انھوں نے اعلیٰ درجہ کے بادبانی جہاز تیار کيے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے سمندری جہازوں کو اکثر موافق ہوا ملتی تھی۔ اس طرح تانبا پگھلا کر سامان بنانے کا فن بھی ان کے زمانہ میں بہت ترقی کر گیا۔ ان غیر معمولی قوتوں سے حضرت سلیمان مختلف قسم کے تعمیری اور اصلاحی کام لیتے تھے۔ انھیں میں سے ان چیزوں کی تیاری بھی تھی جن کا ذکر آیت میں کیاگیا ہے۔ انسان سراپا خدا کا احسان ہے۔اس ليے اس کے اندر سب سے زیادہ خدا کے شکر اور احسان مندی کا جذبہ ہونا چاہيے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو جوکچھ ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں ملتاہے۔ اس ليے آدمی اس کو اسباب کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ ملتی ہوئی چیز کو خدا سے ملتاہوا دیکھے۔ بظاہر اپنی عقل اور محنت سے حاصل ہونے والی چیز کو براہِ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔