Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ ﴾
“Yet [even Solomon had to die; but] when We decreed that he should die, nothing showed them that he was dead except an earthworm that gnawed away his staff. And when he fell to the ground, those invisible beings [subservient to him] saw clearly that, had they but understood the reality which was beyond the reach of their perception, they would not have continued [to toil] in the shameful suffering [of servitude]”
حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرارہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی۔ مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجودہیں اور نگرانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصہ کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پاچکے ہیں۔ یہ واقعہ اس صورت میں غالباً اس ليے پیش آیا تاکہ لوگوں کے اس غلط عقیدہ کی عملی تردید ہوجائے کہ جنّات غیب کا علم رکھتے ہیں۔