WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 19 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَقَالُوا۟ رَبَّنَا بَٰعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَٰهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ ﴾

“But now they would say, “Long has our Sus­tainer made the distance between our journey- stages!” - for they had sinned against themselves. And in the end We caused them to become [one of those] tales [of things long past], and scattered them in countless fragments. Herein, behold, there are messages indeed for all who are wholly patient in adversity and deeply grate­ful [to God].”

📝 التفسير:

برکت والی بستیوں سے مراد شام کا سر سبز وشاداب علاقہ ہے۔ اس سرسبز علاقہ میں یمن سے شام تک خوبصورت آبادیوں کی قطاریں چلی گئی تھیں۔ ان کے درمیان سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ یہ ماحول اپنی حقیقت کے اعتبار سے ربانی جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ گویا کہ خدا نے یہاں ایک خاموش سائن بورڈ لگادیاہو کہ — بے خوف وخطر چلو اور اپنے رب کا شکر کرو۔ مگر سبا کے غافل لوگ اس خدائی کتبہ کو نہ پڑھ سکے۔ انھوںنے اپنے رویہ سے ان خدائی نعمتوں کا استحقاق کھو دیا۔ چنانچہ وہ اس طرح مٹے کہ وہ ماضی کی داستان بن گئے۔ علاقہ کی تباہی کے بعد سبا کے مختلف قبائل اپنے وطن سے نکل کر دور دور کے علاقوں میں منتشر ہوگئے۔ یہ واقعات تاریخ کے معلوم واقعات ہیں۔ مگر ان کو جاننے والا حقیقۃ ً وہ ہے جو ان سے یہ سبق لے کہ اس کو خوش حالی ملے تو وہ ناز میں مبتلا نہ ہو۔ اس کو جو کچھ ملے اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر وہ خدا کا شکر گزار بن جائے۔