Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴾
“Now, indeed, Iblis did prove that his opinion of them had been right: for [when he called them,] they followed him - all but some of the believers [among them].”
ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔