WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 21 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْءَاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّۢ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ﴾

“And yet, he had no power at all over them: [for if We allow him to tempt man,] it is only to the end that We might make a clear distinction between those who [truly] believe in the life to come and those who are in doubt thereof: for thy Sustainer watches over all things.”

📝 التفسير:

ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔