WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 22 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ ﴾

“SAY: “Call upon those [beings] whom you imagine [to be endowed with divine powers] beside God: they have not an atom’s weight of power either in the heavens or on earth, nor have they any share in [governing] either, nor does He [choose to] have any helper from among them.””

📝 التفسير:

اگر چہ ہر دور میں بیشتر لوگ آخرت کو مانتے رہے ہیں۔ مگر ہر دور میں شیطان نے ایسے خود ساختہ عقیدے لوگوں کے درمیان رائج کردئے جنھوں نے ان کو آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیا۔ انھیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے کہ جن ہستیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ خدا کی عظمت کے احساس نے انھیں سراسیمہ کررکھا ہے، ان کے بارے میں ان کے پرستاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ خدا کے یہاں ان کی نجات کےلیے کافی ہوجائیں گے۔