WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ﴾

“And, before Him, intercession can be of no avail [to any] save one in whose case He may have granted leave [there for]: so much so that when the terror [of the Last Hour] is lifted from their hearts, they [who have been resurrected] will ask [one an­other], “What has your Sustainer decreed [for you]?” - [to which] the others will answer, “Whatever is true and deserved - for He alone is exalted, great!””

📝 التفسير:

اگر چہ ہر دور میں بیشتر لوگ آخرت کو مانتے رہے ہیں۔ مگر ہر دور میں شیطان نے ایسے خود ساختہ عقیدے لوگوں کے درمیان رائج کردئے جنھوں نے ان کو آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیا۔ انھیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے کہ جن ہستیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ خدا کی عظمت کے احساس نے انھیں سراسیمہ کررکھا ہے، ان کے بارے میں ان کے پرستاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ خدا کے یہاں ان کی نجات کےلیے کافی ہوجائیں گے۔