WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 25 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قُل لَّا تُسْـَٔلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴾

“Say: “Neither shall you be called to account for whatever we may have become guilty of, nor shall we be called to account for whatever you are doing.””

📝 التفسير:

کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔