WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 28 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةًۭ لِّلنَّاسِ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴾

“NOW [as for thee, O Muhammad,] We have not sent thee otherwise than to mankind at large, to be a herald of glad tidings and a warner; but most people do not understand [this],”

📝 التفسير:

ہر نبی نے براہِ راست طورپر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہِ راست طورپر اپنی ہی قوم کےلیے منذر اور مبشر بنے (الانعام، 6:92 )۔ مگر چوں کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اس ليے اب تمام قوموں کےلیے حکماً آپ ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانے میں مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو نیابۃً انذار وتبشیر کا کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طورپر آپ کے دائرۂ نبوت میں داخل ہے۔ اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔ پیغمبر کا کام ہمیشہ صرف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوموں کے عملی انجام کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی دنیا میں بھی۔