Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَأْتِينَا ٱلسَّاعَةُ ۖ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَآ أَصْغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرُ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ ﴾
“And yet, they who are bent on denying the truth assert, “Never will the Last Hour come upon us!” Say: “Nay, by my Sustainer! By Him who knows all that is beyond the reach of a created being’s perception: it will most certainly come upon you!” Not an atom’s weight [of whatever there is] in the heavens or on earth escapes His knowledge; and neither is there anything smaller than that, or larger, but is recorded in [His] clear decree,”
قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔ مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔ حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔