https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 32 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوٓا۟ أَنَحْنُ صَدَدْنَٰكُمْ عَنِ ٱلْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَآءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ ﴾

“[And] those who were wont to glory in their arrogance will say unto those who had been weak: “Why - did we keep you [forcibly] from following the right path after it had become obvious to you? Nay, it was but you [yourselves] who were guilty!””

📝 التفسير:

حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔ عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔