Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥ ۚ وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ﴾
“Say: “Behold, my Sustainer grants abundant sustenance, or gives it in scant measure, unto whomever He wills of His servants; and whatever it be that you spend on others, He [always] replaces it: for He is the best of providers.””
جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔ یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔