WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 45 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا۟ مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ فَكَذَّبُوا۟ رُسُلِى ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ﴾

“Thus, too, gave the lie to the truth [many of] those who lived before them; and although those [earlier people] had not attained to even a tenth of [the evidence of the truth] which We have vouch­safed unto these [late successors of theirs], yet when they gave the lie to My apostles, how awesome was My rejection!”

📝 التفسير:

قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔ قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔