WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 51 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ فَزِعُوا۟ فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا۟ مِن مَّكَانٍۢ قَرِيبٍۢ ﴾

“IF THOU couldst but see [how the deniers of the truth will fare on Resurrection Day,] when they will shrink in terror, with nowhere to escape - since they will have been seized from so close nearby”

📝 التفسير:

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔