Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلْحَقَّ وَيَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ ﴾
“NOW THEY who are endowed with [innate] knowledge are well aware that whatever has been bestowed upon thee from on high by thy Sustainer is indeed the truth, and that it guides onto the way that leads to the Almighty, the One to whom all praise is due!”
قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔ مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔ حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔