WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 8 من سورة سُورَةُ سَبَإٍ

Saba • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلْبَعِيدِ ﴾

“Does he [knowingly] attribute his own lying inventions to God - or is he a madman?” Nay, [there is no madness in this Prophet -] but they who will not believe in the life to come are [bound to lose themselves] in suffering and in a profound aberration.”

📝 التفسير:

مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔