WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 158 من سورة سُورَةُ الصَّافَّاتِ

As-Saaffaat • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًۭا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ﴾

“And some people have invented a kinship between Him and all manner of invisible forces although [even] these invisible forces know well that, verily, they [who thus blaspheme against God] shall indeed be arraigned [before Him on Judgment Day: for]”

📝 التفسير:

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔ انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔