Az-Zumar • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُۥ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍۢ ﴾
“IS NOT God enough for His servant? And yet, they would frighten thee with those [imaginary divine powers which they worship] beside Him! But he whom God lets go astray can never find any guide,”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے داعی تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ’’خدا ایک ہے‘‘کے مثبت اعلان پر اکتفافرمائیں۔ اسی کے ساتھ آپ ان غیر خدائی ہستیوں کی تردید بھی فرماتے تھے جن کو لوگوں نے بطور خود معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت کا یہی دوسرا جزء لوگوں کےلیے ناقابل برداشت بن گیا۔ یہ غیر خدائی ہستیاں دراصل ان کے قومی اکابر تھے۔ صدیوں سے وہ ان کی کرامت کی مبالغہ آمیز داستانیں سنتے آرہے تھے۔ ان کے ذہن پر ان ہستیوں کی عظمت اس طرح چھا گئی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تقدس کی تردید فرمائی تو ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آیا کہ وہ غیر مقدس کیسے ہوسکتے ہیں۔ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ تم تباہ ہوجاؤ گے۔ یا تم کو جنون ہو جائے گا (لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ) تفسیرالبغوی، جلد4، صفحہ 90۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پروا نہ کرے۔ وہ اللہ کے بھروسے پر اثباتِ توحید اور تردیدِ شرک کا دو گونہ کام جاری رکھے۔ کیوں کہ اس کے بغیر امر حق پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔