WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 59 من سورة سُورَةُ الزُّمَرِ

Az-Zumar • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ بَلَىٰ قَدْ جَآءَتْكَ ءَايَٰتِى فَكَذَّبْتَ بِهَا وَٱسْتَكْبَرْتَ وَكُنتَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ ﴾

“[But God will reply:] “Yea, indeed! My mes­sages did come unto thee; but thou gavest them the lie, and wert filled with false pride, and wert among those who deny the truth!””

📝 التفسير:

خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔