An-Nisaa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى ٱلْكَلَٰلَةِ ۚ إِنِ ٱمْرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيْسَ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَهُۥٓ أُخْتٌۭ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَتَا ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوٓا۟ إِخْوَةًۭ رِّجَالًۭا وَنِسَآءًۭ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ ﴾
“THEY WILL ASK thee to enlighten them. Say: "God enlightens you [thus] about the laws concerning [inheritance from] those who leave no heir in the direct line: If a man dies childless and has a sister, she shall inherit one-half of what he has left, just as he shall inherit from her if she dies childless. But if there are two sisters, both [together] shall have two-thirds of what he has left; and if there are brothers and sisters, then the male shall have the equal of two females' share." God makes [all this] clear unto you, lest you go astray; and God knows everything.”
اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔ میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔