Ghafir • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَقَدْ جَآءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّۢ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِهِۦ رَسُولًۭا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌۭ مُّرْتَابٌ ﴾
““And [remember:] it was to you that Joseph came aforetime with all evidence of the truth; but you never ceased to throw doubt on all [the messages] that he brought you - so much so that when he died, you said, ‘Never will God send any apostle [even] after him!’ “In this way God lets go astray such as waste their own selves by throwing suspicion [on His revelations] –”
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں مصر کے لوگوں کی اکثریت آپ کی نبوت کی قائل نهيں ہوئی۔ مگر آپ کی وفات کے بعد جب ملکی سلطنت کا نظام بگڑنے لگا تو مصریوں کو آپ کی عظمت کا احساس ہوا۔ اب وہ کہنے لگے کہ یوسف کا وجود مصر کےلیے بہت بابرکت تھا۔ ایسا رسول اب کہاں آئے گا۔ حضرت یوسف اگرچہ خدا کے پیغمبر تھے مگر اسی کے ساتھ وہ ایک انسان بھی تھے۔ اس بنا پر لوگوںکےلیے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ — ’’کیا ضروری ہے کہ یوسف کے کمالات پیغمبري کی بنا پر ہوں، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہوں اور ا س بنا پر انھوں نے کمالات ظاہر کيے ہوں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں تھیں جن کو لے کر مصر کے لوگ آپ کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگئے۔ حق خواہ کتنا ہی واضح ہو، موجودہ امتحان کی دنیا میں ہمیشہ اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی کوئی شبہ کا پہلو نکال کر اس کا منکر بن جائے۔ اب جو لوگ اپنے اندر سرکشی اور گھمنڈ کا مزاج ليے ہوئے ہوں ۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ حق کو مان کر وہ اپنی بڑائی کھو دیں گے۔ وہ عین اپنے مزاج کے تحت انھیں شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔