Ghafir • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَلَا ٱلْمُسِىٓءُ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ﴾
“But [then,] the blind and the seeing are not equal; and neither [can] they who have attained to faith and do good works and the doers of evil [be deemed equal]. How seldom do you keep this in mind!”
کائنات کی عظمت اپنے خالق کی عظمت کا تعارف ہے۔ یہ عظمت اتنی بے پناہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً ایک بہت زیادہ آسان کام ہے۔ اس طرح کائنات کی موجودہ تخلیق انسان کے تخلیقِ ثانی کے امکان کو ثابت کررہی ہے۔ اس کے بعد انسانی سماج کو دیکھا جائے تو آخرت کی دنیا کا آنا ایک اخلاقی ضرورت معلوم ہونے لگتا ہے۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کو دیکھنے والی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کے مقابلہ میں بالکل اندھے بنے ہوں۔ اسی طرح سماج میںایسے لوگ بھی ہیںجو ہر حال میںانصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی جو انصاف سے ہٹ جاتے ہیں اور معاملات میں ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ انسان کا اخلاقی احساس کہتا ہے کہ ان دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں نهيں ہونا چاہيے۔ ان باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ آخرت کا ظہور عقلی طور پر ممکن بھی ہے اور اخلاقی طورپر ضروری بھی۔